گندم بڑھا مہم میں کاشتکاروں کو جدید طریقہ سے کاشت کاری کے بارے آگاہ کیا گیا

ٹوبہ ٹیک سنگھ(محمد آصف حسین رانا سے)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور محکمہ زراعت توسیع کے تعاون سے شروع کی جانے والی گندم بڑھا مہم میں فارمر ڈے، سیمینار اور روڈ شو کا انعقاد کیا کیا۔ پرنسپل زرعی یونیورسٹی سب کیمپس ڈاکٹر ضیا الرحمن نیسب نے کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے تیس ہزار طلباو طالبات نو روزہ گندم بڑھا مہم میں کاشتکاروں کی دہلیزپر زیادہ پیداوار کی حامل اقسام،زمین کی تیاری، کھادوں کا متناسب استعمال،آبپاشی،جڑی بوٹیوں کا تدارک، کٹائی کا جدید طریقہ و دیگرمراحل کے بارے آگاہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر پچاس فیصد آبادی غذائیت کی کمی کا شکارہے اگر 85فیصد گندم اور 15فیصد مکئی کے ملاپ سے آٹا تیار کیا جائے تو ان مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کر کے فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے گا جس کیلئے زرعی یونیورسٹی کے سائنسدان اپنی تحقیقات کاشتکاروں کی دسترس تک پہنچانے کیلئے آٹ ریچ پروگرام وسعت لا رہے ہیں۔ترجمان زرعی یونیورسٹی اور پروفیسر آف انٹومالوجی ڈاکٹر جلال عارف نے کہا صوبائی وزیر زراعت حسین جہانیاں گردیزی خصوصی ہدایت اور وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کی زیر سرپرستی زرعی یونیورسٹی کے طلبہ اور ماہرین کاشتکاروں میں اگاہی پیدا کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند سالوں سے گندم کے زیر کاشت رقبہ میں بتدریج کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس پر قابو پانے کیلئے پچھلے سال حکومتی سطح پر کسانوں کو گندم کی کاشت کی طرف راغب کرنے کیلئے زرعی جامعات اور محکمہ زراعت توسیع کے باہمی اشتراک سے گندم بڑھامہم کا اجرا کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر زراعت توسیع چوہدری عبدالحمید نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے زرعی ماہرین کی سفارشات کو اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت توسیع محکمہ کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لئے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لا رہے ہیں۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ سندھو نے کہا کہ پچھلے سال 3 ملین ٹن گندم امپورٹ کرنا پڑی تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ اس سال فی ایکڑ پیداوار غذائی بحران پر قابو پالیا جائیگا۔ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ ترقی پسند کاشتکار گندم کی 70سے 80من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر رہا ہے جبکہ چھوٹے کاشتکار کئی وجوہات کی بنا پر31من فی ایکٹر پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ملک میں غذائی استحکام اور زرعی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے کسانوں کی دہلیز تک نا صرف اپنا دائرہ کار بڑھا رہی ہے بلکہ صوبے بھر میں اپنے سب کیمپسز کے ذریعے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے کیلئے تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع پنجاب حاجی محمد اسلم نے کہا کہ محکمہ صوبے کے بائیس ہزار دیہاتوں تک زرعی سفارشات پہنچانے کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہا ہے ۔ تصدیق شدہ بیج کا استعمال،زمین کی تیاری سمیت مختلف زرعی سفارشات سے کاشتکاروں کی راہنمائی کر کے زرعی ترقی کے اہداف حاصل کر جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد عون، ڈاکٹر فاروق خالد اور ڈاکٹر طیب نے بھی خطاب کیا۔

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button