تحریر نگار: محمد لقمان زاہد ٹوبہ ٹیک سنگھ ، موضوع: اعتبار پیدا کیجیے

تحریر نگار: محمد لقمان زاہد ٹوبہ ٹیک سنگھ ، موضوع: اعتبار پیدا کیجیے
ایک آدمی نے کاروبار شروع کیا اس کے پاس مشکل سے چند سو روپے تھے۔وہ کپڑے کے کچھ ٹکڑے خرید کر لاتا اور پھیری کر کے اس کو فروخت کرتا۔کچھ کام بڑھا تو اس نے ایک دکان والے سے اجازت لے کر اس کی دکان کے سامنے بیٹھنا شروع کردیا۔وہ جس تھوک فروش سے کپڑے خریدتا تھا۔اس سے اس نے نہایت اصول کا معاملہ کیا۔آہستہ آہستہ اس تھوک فروش کو اس آدمی کے اوپر اعتبار ہوگیا۔وہ اس کو ادھار کپڑا دینے لگا۔جب آدمی ادھار پر کپڑا لاتا تو اس کی کوشش ہوتی کہ وعدہ سے کچھ پہلے ہی اس کی ادائیگی کر دے۔اسی طرح کرتا رہا یہاں تک کہ تھوک فروش کی نظر میں اور اعتبار بڑھ گیا۔اب وہ اس کو اور زیادہ کپڑے ادھار دینے لگا۔چند سال میں یہ نوبت آ گئی کے تھوک فروش اس کو پچاس ہزار اور ایک لاکھ روپے کا کپڑا بے تکلف دے دیتا۔وہ اس کو اس طرح مال دینے لگا۔جیسے کہ وہ اس کے ہاتھ نقد فروخت کر رہا ہوں۔اب آدمی کا کام اتنا بڑھ چکا تھا کہ اس نے ایک دکان لے لی۔دکان بھی اس نے نہایت اصول کے ساتھ چلائی۔اور اپنے شہر میں کپڑے کے بڑے دکانداروں میں شمار ہونے لگا۔میرے گھر سے دو کلومیٹر کی دوری پر ایک مدرسہ تھا۔ جس میں میں قرآن پاک حفظ کرتا تھا۔میرے ابو جان نے مجھے نیا سائیکل لے کر دیا. میں سائیکل پر مدرسہ جانے لگا۔ایک دن میں نے دوپہر کو مدرسہ سے سائیکل باہر نکالا اور دیکھا کہ اس کا ٹائر پنچر تھا۔ اوپر سے سخت گرمی اور میرا روزہ بھی تھا۔ اتفاق سے اس دن میرے پاس پیسے بھی نہیں تھے۔میں کافی پریشان تھا۔میں نے سوچا چلو سائیکل والی دکان پر جاتا ہوں۔میں دکان پر پہنچا۔دکاندار باہر ہی کھڑا تھا۔ جیسے میرا انتظار کر رہا ہوں۔اس نے جلدی سے میرے سائیکل کو پنچر لگایا۔اس نے پیسے نہیں مانگے۔میں نے اسے کہا کہ میں نے مدرسہ آنا ہے دو بجے تب دے دو گا۔دکاندار نے کہا کوئی بات نہیں جب مرضی دے دینا۔۔جو اللہ کہ راستے مین جاتا ہے اللہ اس کی اسے مدد فرماتے ہے۔ میں گھر پہنچا میں نے امی جان سے پیسے لیے اور فورا دکان پر آیا۔اور اس دکاندار کو دیے۔میں نے تین چار دفعہ ایسے ہی کیا۔اس کے ذہن میں میرا اعتبار آہستہ آہستہ بیٹھنے لگا۔میں نے تین سال مدرسہ پڑھا۔کوئی بھی مسئلہ ہوتا میں دکان پر جاتا سائیکل ٹھیک کروانے۔اگر پیسے ہوتے تو فورا دے دیتا نہیں تو وقت سے پہلے دے دیتا۔ اسی طرح اس کو مجھ پر اعتبار ہو گیا۔اتنا اعتبار ہو گیا۔ایک دفعہ سائیکل کی خرابی کی وجہ سے پھر جانا ہوا میں پہنچا کہنے لگا۔حافظ صاحب اب دس منٹ دکان پر بیٹھے میں نے کچھ چیزیں لینی تھی وہ لے آں۔ اعتماد کی وجہ سے پوری دکان میرے حوالے کر گیا۔اعتبار چھوٹا سا ایک لفظ ہے لیکن جب ٹوٹتا ہے تو بہت لمبی دوریاں پیدا کر دیتا ہے۔ اعتبار اسٹیکر جیسا ہوتا ہے وہ دوبارہ پہلے جیسا نہیں لگتا۔ اعتبار بولنے میں دو سیکنڈ لگتے ہیں، سوچنے میں دو منٹ لگتے ہیں، سمجھنے میں دن لگتے ہیں، اور ثابت کرنے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہر اس دوست پر اعتبار کرو جو تمہارے مشکل وقت میں کام آئے۔ جب کسی پر اعتبار کرو تو اتنا حد تک کرو. یا تو ایک سچا ساتھی مل جائے گا۔یا پھر سچا سبق مل جائے گا۔کہتے ہیں کہ اعتبار انتہائی بے اعتباری چیز ہے جسے حاصل کرنے میں سالہا سال بیت جاتے ہیں لیکن گنوانے میں چند سیکنڈ بھی نہیں لگتے۔ اسی لیے تو مثال مشہور ہے کہ پہاڑ سے گرا پھر بھی دوبارہ اس پر چڑھ سکتا ہے لیکن نظروں سے گرا ہوا شخص کبھی بھی دوبارہ نہیں چڑھ پاتا۔اس دنیا میں سب سے بڑی ضرورت روپیہ نہیں۔ اس دنیا میں سب سے بڑی دولت اعتبار ہے۔اعتبار کی بنیاد پر آپ کچھ بھی لے سکتے ہیں۔جس طرح نوٹ کے بنیاد پر آدمی بازار سے سامان خرید سکتا ہے۔اعتبار ہر چیز کا بدل ہے۔مگر اعتبار زبانی دعاں سے حاصل نہیں ہوتا۔اعتبار قائم ہونے میں صرف ایک ہی بنیاد ہے۔وہ حقیقی عمل ہے۔خارجی دنیا اس معاملے میں انتہائی حد تک بے رحم ہے۔لمبی مدت تک بیداغ عمل پیش کرنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے۔کہ لوگ آپ کے اوپر اعتبار قائم کرے۔

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button