توشہ خانہ تحائف کا 2002 ء سے2023ء کا ریکارڈ پبلک کر دیا

ٹوبہ ٹیک سنگھ ( محمد آصف حسین رانا سے)وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا ریکارڈ سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردیا۔ وفاقی حکومت نے کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ریکارڈ اپ لوڈ کیا۔ توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا 466 صفحات پر مشتمل ریکارڈ اپ لوڈ کیا گیا۔ توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے والوں میں سابق صدور، سابق وزراء اعظم، وفاقی وزراء اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں۔ سابق صدر مملکت پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر اعظم عمران خان کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپ لوڈ کیا گیاہے۔ ویب سائٹ پر موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر عارف علوی کا توشہ خانہ ریکارڈ بھی اپ لوڈ کیا گیا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک عدد ڈائمنڈ گولڈگھڑی مالیت ساڑھے 8 کروڑ روپے، کلف لنکس مالیت 56لاکھ 70 ہزار، ایک عدد پین مالیت 15 لاکھ، ایک عدد انگوٹھی مالیت 87 لاکھ 5 ہزار ہے ، تمام چیزیں 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں۔ اس کے علاوہ عود کی لکڑی کا بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے جو بغیر ادائیگی کے حاصل کی گئیں، ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 15 لاکھ روپے صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی،سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی مالیت9 لاکھ روپے، ایک اور لیڈیزرولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار، دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزار، ایک پرس مالیت 6ہزار،ایک لیڈیز پرس مالیت18 ہزار، ایک عدد بال پین مالیت28 ہزار روپے ہے ، صرف3 لاکھ 38 ہزار 600 روپے اداکرکے حاصل کئے گئے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی توشہ خانہ سے قیمتی تحائف حاصل کئے، جن کی ترتیب درج ذیل ہے، صدر علوی نے ایک تسبیح مالیت5 لاکھ 76 ہزار 500 ،ایک عدد پین مالیت1 لاکھ 30ہزار،کلف لنکس مالیت 2 لاکھ 12 ہزار450 روپے، ایک عدد گھڑی مالیت ایک کروڑ75 لاکھ روپے،ایک عدد انگوٹھی3 لاکھ 27 ہزار،عود لکڑی کی دو پکٹس(pickets )مالیت 3 لاکھ، دو عدد پرفیوم مالیت 1 لاکھ 75 ہزار روپے کوئی رقم دیئے بغیر رکھ لئے۔صدر مملکت نے ایک سلور کی کیٹل مالیت سوا لاکھ روپے، ایک عدد شیلڈجس کی مالیت معلوم نہیں،47 ہزار 500 روپے ادا کرکے حاصل کیں۔مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے مرسیڈیز بینزکارمالیت 42 لاکھ 55 ہزار919روپے تھی جو صرف6 لاکھ 36ہزار888 روپے اداکرکے حاصل کی گئی،اس کے علاوہ ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 11 لاکھ 85 ہزار،ایک عدد کلف لنکس مالیت 25 ہزار، 4 یادگاری سکے مالیت 15ہزار روپے تھی جو 2 لاکھ 43 ہزار روپے کے عوض حاصل کی گئیں،سابق وزیراعظم نوا زشریف نے ایک عدد گھڑی مالیت ساڑھے 7 لاکھ روپے تھی جو 1 لاکھ 48ہزار روپے میں خریدی،قائد ن لیگ نے ایک عدد گھڑی مالیت 10 لاکھ 5 ہزار روپے ،دوپرفیومز پر مشتمل بکس مالیت 1 لاکھ 60 ہزار روپے تھی صرف2 لاکھ 40 ہزار روپے میں حاصل کئے گئے۔ 2018 میں فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، گھڑی کی 3 لاکھ 74 ہزار روپے قیمت توشہ خانہ میں جمع کروا دی گئی،2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر وسیم کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی ، جو 3 لاکھ 94 ہزار روپے میں حاصل کی گئی۔ 2018 میں ہی سابق وزیر اعظم کے چیف سکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے جو انہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیئے تھے، اسد عمر نے 9 لاکھ روپے مالیت کے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے۔صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے جس میں سے انہوں نے قرا?ن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیئے، اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا۔حکومتی سربراہان کے علاوہ وفاقی وزرا، اعلیٰ حکام اور سرکاری ملازمین کو ملنے والے تحائف کا ریکارڈ بھی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا ہے، کم مالیت کے بیشتر تحائف وصول کنندگان نے قانون کے مطابق بغیر ادائیگی کے ہی رکھ لیے کیونکہ 2022ء میں دس ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا۔2004 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی مالیت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی، 2005 میں سابق صدر کو ملنے والی گھڑی کی قیمت 5 لاکھ روپے بتائی گئی، ان کو مختلف اوقات میں درجنوں قیمتی گھڑیاں اور جیولری بکس ملے جو قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے تھے۔جبکہ جنرل (ر) پرویزمشرف کی اہلیہ کو 2003 میں ملنے والے ایک جیولری بکس کی قیمت 26 لاکھ 34 ہزار 387 روپے لگائی گئی۔2004 میں چوہدری شجاعت حسین نے بھی بطور وزیر اعظم توشہ خانہ سے تحائف حاصل کیے، انہوں نے 2 لاکھ روپے مالیت کے 4 تحائف 28 ہزار 5 سو میں خریدے، شجاعت حسین نے ساڑھے 8 ہزار روپے مالیت کا کلین اور ایک عدد ساڑھی مفت حاصل کی، اس کے علاوہ 8 ہزار روپے مالیت کا ایک ڈیکوریشن پیس بھی توشہ خانہ سے مفت حاصل کیا۔2004 میں شیخ رشید احمد نے توشہ خانہ سے 85 ہزار روپے مالیت کی زنانہ اور مردانہ 2 گھڑیاں 11 ہزار 2 سو 50 روپے میں حاصل کیں، جہانگیر خان ترین نے 15 سو روپے مالیت کا ٹی سیٹ مفت حاصل کیا، سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے 85 ہزار روپے مالیت کی 2 گھڑیاں 11 ہزار 2 سو 50 روپے میں حاصل کیں۔2005 میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو ساڑھے 8 لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی جو 3 لاکھ پچپن ہزار میں نیلام ہوئی جبکہ انہوں نے سیکڑوں تحائف دس ہزار سے کم مالیت ظاہر کر کے بغیر ادائیگی رکھ لیے تھے، اسی سال مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کو گھڑی ملی جس کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روپے ظاہر کی گئی۔سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے تحفہ میں ملنے والا خانہ کعبہ کا ماڈل وزیر اعظم ہاؤس میں نصب کروایا ۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 10 لاکھ پچاس ہزار روپے مالیت کی گھڑی 2 لاکھ 8 ہزار روپے میں خریدی، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن رضا نقوی بھی توشہ خانہ سے تحائف لینے والوں میں شامل ہیں۔ جنوری 2009 کو سابق صدر آصف علی زرداری نے 10 کروڑ 78 لاکھ روپے مالیت کی 2 لگڑری گاڑیاں صرف ایک کروڑ 17 لاکھ 72 ہزار روپے میں حاصل کیں، اس کے علاوہ انہوں نے 2 کروڑ 73 لاکھ 39 ہزار روپے کی بی ایم ڈبلیو گاڑی 40 لاکھ 99 ہزار روپے دے کر حاصل کی۔ 2011 میں سابق صدر نے 8 لاکھ 47 ہزار روپے مالیت کی سونے کی تلوار، سونے کی تسبیح اور دیگر تحائف ایک لاکھ 25 ہزار روپے میں حاصل کیے، جبکہ بریف کیس، کارپٹ اور ایک شیلڈ 15 سو روپے میں خریدے، دس تحائف جن کی مالیت 1 لاکھ 23 ہزار بنتی ہے، 16 ہزار 950 روپے میں خریدے، 2013 میں بلاول بھٹو نے بھی توشہ خانہ سے تحائف لیے۔2013 میں سابق صدر ممنون حسین نے ملنے والے 35 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تحائف 5 لاکھ چالیس ہزار روپے دے کر حاصل کیے جبکہ 2017 میں اسحاق ڈار نے ملنے والے 63 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تحائف 12 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کر کے حاصل کیے، خواجہ ا?صف نے 18 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی 3 لاکھ 54 ہزار روپے میں خریدی۔اگست 2017 کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملنے والے دو کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تحائف 45 لاکھ روپے میں حاصل کیے، ان میں بیش قیمت گھڑی، کف لنکس، قلم انگوٹھی اور تسبیح شامل تھے، بطور وزیر پیٹرولیم 5 لاکھ 82 ہزار روپے مالیت کی گھڑی 1 لاکھ 14 ہزار 4 سو روپے میں خریدی۔2018 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑ پچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی جبکہ اسی سال ان کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، شاہد خاقان عباسی کی اہلیہ نے 9 کروڑ 99 لاکھ 84 ہزار روپے کا جیولری سیٹ 1 کروڑ 99 لاکھ 90 ہزار 8 سو روپے، ساڑھے 8 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی 1 لاکھ 68 ہزار روپے میں خریدی۔شاہد خاقان عباسی کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی جو انہوں نے 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی، شاہد خاقان عباسی کے بیٹے نے 85 ہزار روپے مالیت کا موبائل 11 ہزار روپے میں خریدا۔وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر وسیم کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی جو انہوں نے توشہ خانہ میں 3 لاکھ 74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔کلثوم نواز نے 6 لاکھ روپے سے زائد کا گولڈ بار اور بریسلٹ ایک لاکھ 21 ہزار میں لیا۔ کلثوم نواز نے 2016 ء میں 5 کروڑ روپے کے تحائف ایک کروڑ 8 لاکھ 63 ہزار میں رکھے۔اسحاق ڈار نے 2017 میں 63 لاکھ سے زائد کے تحائف 12 لاکھ 80 ہزار روپے میں لئے یکم جنوری 2023 ء سے 11 مارچ کے تحائف کی ویلیو تاحال نہیں لگ سکی۔ صدر عارف علوی کو 6 لاکھ مالیت کی کلا شنکوف اے  کے 47 تحفے میں ملی۔ صدر نے قانون کے مطابق ادائیگی کی کے کلاشنکوف اپنے پاس رکھ لی۔شہبازشریف نے گائے کا ماڈل‘ کراچی وال ہنگنگ‘ بائول‘ خنجر‘ مفت میں    رکھ لئے۔ گائے ماڈل 8 ہزار‘ کراچی 25 ہزار‘ وال ہینگنگ  17 ہزار اور خنجر 50 ہزار مالیت کے تھے۔ بلاول بھٹو نے ساڑھے ٰ 6 ہزار کا گلدان مفت میں رکھا۔  شہبازشریف  کو تحائف میں درجنوں چیزیں ملیں جو انہوں نے مفت میں رکھ لیں۔ توشہ خانہ سے تحائف لینے والوں میں کئی صحافیوں‘ سابق وفاقی وزرائ‘ فوجی عہدیداران‘ بیور کریٹس کے نام بھی شامل ہیں۔ والدہ نے 2009ء میں ایک لاکھ 15 ہزار کی 2 گھڑیاں‘ 30 ہزار  میں لیں۔ شہبازشریف نے 28 ہزار کا گھوڑاے کا دھاتی مجسمہ فری میں رکھ لیا۔ شہبازشریف نے چاکلیٹ اور شہد 12 ہزار‘ جار 10 ہزار روپے کا فری میں رکھ لیا۔ وزیراعظم  نے 4 لاکھ روپے مالیت کا طلائی گلدان توشہ خانہ سے لیا۔ انہوں نے طلائی  گلدان کیلئے ایک لاکھ 85 ہزار روپے ادائیگی کی۔ شہبازشریف ن ے 2013ء میں بطور وزیراعلیٰ 35 ہزار کا ڈیکوریشن پیس 5 ہزار میں لیا۔ شہبازشریف نے سرما ماڈل 20 ہزار‘ فریم  ساتھ پینٹنگ 12 ہزار مالیت کی فری میں لی۔ نجی ٹی وی کے ڈائریکٹر رانا جواد نے بھی ایک لاکھ 10 ہزار کی گھڑی 20 ہزار  روپے  دیکر رکھ لی۔ 

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button