جواء ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، محمد آصف حسین رانا

ٹوبہ ٹیک سنگھ ( بیورو رپورٹ ) جوا ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جوئے کے جال میں پھنس کر کئی لوگ بربادہوچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف صحافی محمد آصف حسین رانا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ عادی جواریوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے محض تفریح کے لئے چھوٹی چھوٹی رقمیں لگانے سے جوا کھیلنے کا آغاز کیامگر رفتہ رفتہ اس ناسور کے ایسے عادی ہوئے کہ اب جوئے کی لت چھوڑنا ان کے لئے دشوار ہو گیا۔ جوئے میں انسان بہت کچھ ہارجاتا ہے چنانچہ جواری مالی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں،کچھ نہیں سوجھتا توسود پر قرض لیتے رہتے ہیں اور ایک لمباہاتھ مارنے کے چکر میں جوئے کی دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں،اپنا وقت جوئے کے اڈوں میں برباد کرتے ہیں اوروہاں پر پھیلنے والی مزید برائیوں نشہ،چوری چکاری وغیرہ میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کئی جواری اپنی نوکری یا کاروبار سے بھی غافل ہوجاتے ہیں، ان کی گھریلو زندگی تباہ ہوکررہ جاتی ہے ،عزت برباد ہوجاتی ہے ، ٹینشن کے مارے جواری بیمار ہوجاتے ہیں،بعض اوقات جوا کھیلنے کی پاداش میں پولیس کے ہاتھوں گرِفتار بھی ہوجاتے ہیں،یوں ان کو جوئے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے ،جب انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا تو اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہوجاتے ہیں کہ خودکشی جیسے حرام کام کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔والدین کو چاہے کہ اپنے بچوں پر ہمیشہ نظر رکھیں کہ ان کی محفل کیسی ہے اور ہر وقت اپنے نوجوان بچوںکو جوئے کے برے اثرات کی تعلیم دیں اور انہیں ان کے جسمانی اور ذہانی صحت کے لئے ضرورتی معلومات فراہم کریں اور اچھے دوستوں کا انتخاب کرنے کو ترویج دیں، جو صحیح راہ دکھاتے ہوں اور مثبت اثرات پیداکرتے ہوں

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button