فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ:

’’حضرت ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک (خاص)معقول دعاہے (جس کی دنیامیں انہیں مانگنے کی اجازت تھی اور جس کی قبولیت ہرصورت میں یقینی تھی) دیگر تمام انبیاء کرام (علیھم السلام) نے اپنی دعا میں جلدی کی لیکن میں نے(اس حق کو دنیا میں استعمال نہیں کیا بلکہ) اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے جمع کررکھا ہےاور یہ ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو اس حال میں دنیا سے رخصت ہو اکہ اس نے اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا- حضرت انس (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا کہ میں زمین پر موجود پتھروں اور ڈھیلوں سے بھی زیادہ لوگوں کی شفاعت کروں گا-حضورنبی کریم (ﷺ) قیامت کے دن میزان کے پاس بھی اور پُل صراط کے پا س بھی شفاعت فرمائیں گے اس طرح ہرنبی کو شفاعت کا حق حاصل ہوگا‘‘-(غنیۃ الطالبین)

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button