خصوصی (معذور) افراد کا عالمی دن اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا

ٹوبہ ٹیک سنگھ( محمد آصف حسین رانا سے ) گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 3 دسمبر 2023ءکو خصوصی (معذور) افراد کا عالمی دن اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ جزوی یا کلی متاثرہ سماعت، نابینا، جسمانی معذور اور ذہنی آزمائشی افراد ہمارے معاشرے کا حصہ زندگی کی تمام تر سہولیات کے حقدار ہیں اقوام متحدہ سے منسلک ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1 ارب 30 کروڑ افراد مختلف قسم کی معذوری کے شکار ہیں، جن میں سے 9 کروڑ 30 لاکھ بچے 15 سال تک کی عمر کے ہیں۔ اس اعدادوشمار کا 80 فیصد تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ پاکستان میں اندازاً 70 لاکھ خصوصی افراد ہیں۔یہ بات سپیشل ایجوکیشنسٹ بشیرربانی نے ایک مطالعاتی رپورٹ کے حوالے سے بتائی،وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی اور نجی سطح پر سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی کے ایک ھزار کے قریب ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ کام پنجاب میںہو رہا ہے۔ جہاں سپیشل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام اب تک 302 ادارے قائم کیے جا چکے ہیں۔ تحصیل، ضلع اور ڈویڑن کے ساتھ ساتھ ٹاو¿نز میں بھی متاثرہ سماعت، نابینا، جسمانی معذور اور ذہنی آزمائشی بچوں کو تمام تر مفت سہولیات کے ساتھ زیور تعلیم آراستہ کیا جا رھا ھے جبکہ اعلی تعلیم اور خصوصی تربیت یافتہ معلمین، ماھرین گفتار، نفسیات اور فزیوتھراپسٹ تعینات کیے گئے ہیں۔ . ان اداروں میں زیرِ تعلیم سپیشل بچوں کو مختلف دستکاری ھنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ جبکہ کئی فارغ التحصیل افراد مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ھوئے باوقار زندگی گزار رھے ھیں. ڈسٹرکٹ فوکل پرسن سپیشل ایجوکیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ حیدر علی نے بتایا کہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں حکومتی سطح پر سپیشل ایجوکیشن کے 7 ادارے کام کر رہے ہیں۔ جن میں گورنمنٹ ھائیرسیکنڈری سپیشل ایجوکیشن سکول برائے متاثرہ سماعت ٹوبہ ٹیک سنگھ، گورنمنٹ مڈل سپیشل ایجوکیشن سکول برائے متاثرہ سماعت کمالیہ جبکہ گوجرہ، پیرمحل، کمالیہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نابینا، متاثرہ سماعت، جسمانی معذور اور ذہنی آزمائشی بچوں کے لیے سپیشل ایجوکیشن سنٹرز اور انضمامی بچوں کے لیے گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ فارسلولرنرز ٹوبہ ٹیک سنگھ شامل ہیں۔ ان 7 خصوصی تعلیمی اداروں میں اس وقت 975 خصوصی بچے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں، قابل ذکر امر یہ ھے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بہت سے دیہات میں 1800 کے قریب معذور بچے سکول جانے کی عمر کے پائے گئے ھیں جن میں زیادہ تعداد چلنے پھرنے سے معذور اور ذہنی آزمائشی بچوں پر مشتمل ہے اگر ان کے قریبی سکول میں ان کے لیے انتظام کر دیا جائے تو وہ بھی تعلیم و تربیت اور سہولیات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔یہاں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سپیشل بچے صلاحیتوں کی دولت سے مالا مال ہیں جنہیں خصوصی مہارتوں سے مزین ماھر معلمین نکھارتے ہیں۔یہ بچے کسی بھی طرح والدین، خاندان اور معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، محنت، محبت اور توجہ سے مفید شہری بن سکتے ہیں۔کئی سماجی ادارے بھی سپیشل بچوں کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
۔۔۔٭٭٭۔۔۔

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button