موضوع حسن اخلاق تحریر نگار ۔ محمد لقمان زاہد ٹوبہ ٹیک سنگھ

اخلاق ایک ایسی صفت ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہو۔اخلاق یہ ہے کہ حالات کتنے ہی ناساز گار کیوں نہ ہو، خواہ زندگی کا راستہ کتنا ہی گھٹن ہو ، اس مخصوص انداز گفتارو کردار کا ثابت قدمی سے مظاہرہ ہوتا ہے اخلاق کا اطلاق انسان کے صرف ایسے اعمال پر ہوتا ہے۔جو ارادی ،شعوری اور اختیاری ہوں۔اور جن سے وہ بخوبی واقف بھی ہو ۔
اللہ تعالی کی نظر میں جو عمل خیر ہے۔ اس کا نام اخلاق حسنہ ہے اور عمل شر کا نام اخلاق سئیہ ہے۔

اخلاق معاشرے کی بنیاد ہے۔ اور جس کی بنیاد کمزور ہو اس پر مضبوط معاشرے کی عمارت تعمیر نہیں ہو سکتی،اگر بن بھی جائے تو زمانہ کے تیز تند جھونکوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔اور بہت جلد ختم ہو جاتی ہے۔
قران پاک کے مطالعہ سے ایسی عقبت انریش اقوام کا پتہ چلتاہے۔ جنہوں نے اخلاق کا دامن چھوڑ دیا۔ اور بد اخلاقی کو اپنا شعار بنا لیا۔اللہ تعالی نے ان کی بستیوں کو الٹ دیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا، سننے والوں نے سنا، کہ وہ سرزمین پکار پکار کر کہہ رہی ہے۔کے بد اخلاقی ہمیں لے ڈوبی۔ اچھا اخلاق نیکی اور حکمت ہے
علم و اخلاق باعث نجات اور نور ہدایت ہے۔مختصر یہ کہ مادی وسائل میں تو ازن کو برقرار رکھنے والا خود کا ر آلہ ہے۔
اللہ تعالی نے اخلاق کے نورانی موتی ہر فرد و بشر پر نچھاور کیے،کسی نے ان موتیوں کو گلے کا ہار بنایا۔اور اخرت کون سنوارا، کسی نے اس کو بیکار اور فرسودہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
اخلاق انسانی ہمدردی اور ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے کا نام ہے۔
قرآن پاک میں ہے رسولﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے،اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے۔
کہ رسولﷺ کہ اخلاق پوری دنیا کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ رسولﷺ کے اخلاق کیسے ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ اپ نے قرآن نہیں پڑھا۔پورا قران آپﷺ کے اخلاق کے ساتھ بڑا ہوا ہے.

جس طرح عبادت فرض ہے۔ اسی طرح اخلاق بھی فرض ہے جس طرح عبادت سے رشتہ توڑنے والا خدا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح اخلاق سے رشتہ توڑنے والا بھی خدا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتا۔ ایمان دعوی ہے۔ تو اخلاق دلیل دعوی ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا "بعثت” میں بیھجا گیا ہوں کس لیے اخلاق کی تکمیل کے لیے۔نبی کس کے لیے بھیجے جاتے ہیں ؟
نبی تو توحید کے لیے بیھجے جاتے ہیں۔ توحید کی دعوت کے لیے اب اللہ کے نبی کہہ رہے ہیں میں بھجا گیا ہوں اخلاق کی تکمیل کے لیے۔اللہ کے نبی نے اخلاق اور توحید کو برابر تول کر دکھا دیا. اللہ تعالی نے ایمان اور اخلاق بہت تھوڑا بیھجا ہے۔اللہ تعالی کے نبی کہہ رہے ہیں۔کہ میں بیھجا گیا ہوں۔ اخلاق کے مکمل کرنے کو اللہ نے کہا میں نے نبیوں کو بیھجا توحید کی دعوت کے لیے ہمارے نبی نے فرمایا میں آیا ہوں۔ اخلاق کی تکمیل کے لیے
اچھے اخلاق یہ بازار میں بہت تھوڑا سودا ہے۔تو اللہ تعالی کہ نبی نے قیمت بڑھائی۔ کیا ارشاد فرمایا جس کے اخلاق اچھے ہوں گے میں جنت الفردوس میں اسے گھر لے کر دوں گا۔

”شہادت “سلام کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔”علم“ شہادت سے بھی بڑا اعزاز ہے۔عالم کے قلم کی سیاہی کا وزن شہید کے خون سے زیادہ ہے۔عالم کے لیے جنت کا وعدہ ،دین کا کام کرنے والوں کے لیے جنت کا وعدہ،مومن کے لیے جنت کا وعدہ ،ضمانت کوئی نہیں

ضمانت صرف اس شخص کے لیے ہے۔آپﷺ نے فرمایا!
”جو اپنے اخلاق اچھے کرے گا میں ضمانت دیتا ہوں جنت الفردوس میں اچھا گھر لے کر دوں گا “
ایک صحابی آئے حضورﷺ کے پاس بیٹھے یا رسولﷺ دین کیا ہے؟آپﷺنے فرمایا: اچھے اخلاق وہ یہاں سے اٹھ کر بائیں طرف آیا یا رسول اللہ! دین کیا ہے۔آپﷺنےفرمایا : اچھے اخلاق وہ یہاں سے پیچھےآکر بیٹھ گیا۔یا رسول اللہ! دین کیا ہے؟اپ پورے مڑے پھر فرمایا: بھائی تو کب سمجھے گا۔دین یہ ہے کہ غصہ نہ ہوا کر، اچھے اخلاق!

ایک صحابی نے پوچھا :ای الایمان افضل؟ سب سے بہترین ایمان کیا ہے؟آپﷺنے فرمایا: حسن اخلاق۔ اچھے اخلاق سب سے بہترین آیمان ہے۔
ایک دن صحابہ کرام نے نبیﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ مختصر بتائیے کہ اللہ تعالی کو کون سا شخص سب سے زیادہ پسند ہے؟آپ نے نہایت مختصر جواب دیا۔
”نفع بخش انسان جو دوسروں کی بھلائی چاہے “

لیکن آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر لوگ اپنے تھوڑے سے فائدہ کے لیے دوسرے کا زیادہ سے زیادہ نقصان کرنے میں دیر نہیں کرتے۔بلکہ دوسروں کو نقصان پہنچا کر خود نفع حاصل کرنے کو عقلمندی سمجھتےہیں۔
اسلام میں اخلاق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ حج کے دن تھے۔ خانہ کعبہ کے طواف کے لیے صف بندی ہو رہی تھی۔ طواف کرنے والوں میں نبیﷺ کریم کے نواسہ حسن رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے.اچانک ان کے کان میں آواز پڑی کہ کسی نے ان کا نام لیا ہو حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص انگی کے اشارہ سے کسی اجنبی کو بتا رہا ہے کہ حسن رضی اللہ تعالی عنہ وہاں ہے۔
حسن رضی اللہ تعالی عنہ صف سے نکل کر اس اجنبی کی طرف جانے لگے تو پاس کھڑے ہوئے آدمی نے ان کا بازو پکڑ کر کہا صف بندی ہو چکی ہے۔طواف کے بعد ان کی بات سن لینا لیکن حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے بازو چھڑا کر اس اجنبی کی طرف چلے گئے۔پھر اس کے ساتھ کہیں اور چلے گئے جب واپس ائے تو اس آدمی نے جس نے حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا بازو پکڑ کر روکا تھا۔طنزیہ انداز میں کہا حسن تم
رسولﷺ کے نواسے ہو۔ تمیں لازم ہے۔ کہ دوسروں کو ہدایت کرو لیکن افسوس تم خود ہی ہدایت کے محتاج ہو۔طواف ہو چکا ہے۔سال بھر کے بعد یہ سعادت نصیب ہوگی تم اس سعادت سے محروم رہے۔اس پردیسی کی بات طواف کے بعد بھی سنی جا سکتی تھی۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا محترم!میرے نانا نے نصیحت اور وصیت کی تھی بیٹا!کوئی فریادی حاجت مند تمہارے دروازے پر آۓ۔ اس کا کام تمہارے ذریعے سے ہو جائے۔ تو اس کا اجر خدا کی بارگاہ میں سات حج کے برابر ہے۔ اللہ نے اس کا کام میرے ذریعے کر دیا۔اب آپ ہی اندازہ کر لیجیے کہ میں نفع میں رہا یا خسارے میں؟(ماخود سیرت حسن مؤلذ شبلی نعمانی)

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button