” صنفی بنیاد پر تشدد کا خاتمہ” کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ

ٹوبہ ٹیک سنگھ ( محمد آصف حسین رانا سے ) سوشل یوتھ کونسل آف پٹریاٹس (سائیکوپ) اور ایشیا فاونڈیشن کے زیر اہتمام ” صنفی بنیاد پر تشدد کا خاتمہ” کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوۓ ڈسٹرکٹ آفیسر پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میاں محمدنعیم نے کہا کہ تشدد کی مختلف اقسام ہیں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا بھی تشدد کی ایک قسم ہے آج زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کا اہم کردار ہے خواتین کے بغیر کسی بھی ملک یا معاشرے کیلئے ترقی ناممکن ہے . ۔
سٹیزن سوشل ویلفئیر فاؤنڈیشن کے صدر عارف جانباز قاضی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تھانوں کو مزید خواتین دوست بنانے اور گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین اور خواجہ سرا کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لئے پولیس تحفظ مرکز کا قیام ایک بہت احسن اقدام ہے جہاں خواتین اور خواجہ سرا اپنے مسائل کے حل کے لئے بلا جھجک آسکتے ہیں . ایشیا فاونڈیشن کے نمائندہ اعجاز وٹو نے کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد ایک معاشرتی ناسور ہے جو خواتین کی زندگیوں میں مختلف نفسیاتی اور معاشرتی عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔
سائیکوپ کے پراجیکٹ منیجر کلیم اللہ خان نے کہا کہ عورتوں پر ہر طرح تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، خواتین کے خلاف تشدد ہماری آئندہ نسلوں کو بہتر انسان بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ممتاز عالم دین حافظ پیر شمس الزمان قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام سے پہلے صنفی امتیاز اور تفریق کا یہ عالم تھا کہ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے عورتوں کو حقوق دیے، لیکن لوگوں نے اسلامی تعلیمات کو بھلا کر پدر سری معاشرے کو فروغ دیا اور عورت کو برابر کا انسان بھی نہیں سمجھا گیا ۔ اس موقع پر پولیس تحفظ مرکز کی ڈپٹی انچارج میڈم نبیلہ ، آصف منور ، سدرہ اختر ایڈووکیٹ ، ملک ساجد علی ایڈووکیٹ ، قاری محمد احمد فیض گولڑوی ، محمد آصف ندیم نے بھی خطاب کیا ۔ سابق چیرمین ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ چوہدری عمران ندیم سدھو ، سینئر صحافی میاں زاہد پرویز سمیت وکلاء سول سوسائٹی کے ارکان اور خواجہ سرا کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button